حدیث نمبر: 12882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاكَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ , أَيُّهُمْ أَفْضَلُ؟ فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى كَلِيمَ اللهِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «مَا تَذْكُرُونَ بَيْنَكُمْ؟» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهُ , تَذَاكَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ , أَيُّهُمْ أَفْضَلُ؟ ذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى كَلِيمَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَمَنْ فَضَّلْتُمْ؟، قُلْنَا فَضَلَّنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، بَعَثَكَ اللهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟، قَالَ: " أَمَا سَمِعْتُمُ اللهَ كَيْفَ وَصَفَهُ فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ: {يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ، وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا} [مريم: ١٢] ، فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ} [آل عمران: ٣٩] لَمْ يَعْمَلْ سَيِّئَةً قَطُّ، وَلَمْ يَهُمَّ بِهَا "
ترجمہ

…اور ہم نے موسیٰ کلیم اللہ کا ذکر کیا، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر کیا، اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا، اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”تم آپس میں کیا باتیں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم انبیاء علیہم السلام کے فضائل کا تذکرہ کر رہے تھے کہ ان میں سب سے افضل کون ہے؟ ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کی طویل عبادت کا ذکر کیا، اور ہم نے ابراہیم خلیل الرحمٰن کا ذکر کیا، اور ہم نے موسیٰ کلیم الرحمٰن کا ذکر کیا، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر کیا، اور یا رسول اللہ! ہم نے آپ کا بھی ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم نے کسے افضل قرار دیا؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نے آپ کو افضل قرار دیا، یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا، اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے، اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے قرآن میں ان کی کیا صفت بیان کی ہے، فرمایا: ’اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو‘، اور ہم نے انہیں بچپن ہی میں حکمت عطا کی“ [سورۃ مریم: 12]، پھر آپ ﷺ نے تلاوت کی یہاں تک کہ اس فرمان تک پہنچے: ”سردار اور نفس پر قابو رکھنے والا اور نیک لوگوں میں سے ایک نبی“ [سورۃ آل عمران: 39] - انہوں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ اس کا ارادہ کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 218، حدیث 12938