المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن شقيق، عن ابن عباس باب: عبداللہ بن شقیق کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12860
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ تَمِيمٍ يُنَادِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ لَا أُمَّ لَكَ، " إِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَمَعَ بَيْنَ الْعَصْرِ وَالظُّهْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَوَافَقَهُترجمہ
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہمیں عصر کے بعد خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نظر آنے لگے، اور لوگ نماز کے لیے پکارنے لگے، اور لوگوں میں بنو تمیم کا ایک شخص پکار رہا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو مجھے سنت سکھاتا ہے؟ تیری ماں تجھے گم پائے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے عصر اور ظہر، اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔