المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
تلب بن تغلب العنبري ويقال: تلب بتشديد الباء باب: سیدنا تلب بن تغلب عنبری رضی اللہ عنہ، اور تَلَبّ بھی کہا جاتا ہے (باء کی تشدید کے ساتھ)
حدیث نمبر: 1285
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حُجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ، أَنَّ التَّلِبَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: إِذَا أُذِنَ لَكَ، أَوْ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ: فَغَبَّرَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ دَعَاهُ، فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ للِتَلِبٍ، وَارْحَمْهُ ثَلَاثًا»ترجمہ
تَلِبّ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! میرے لیے مغفرت مانگیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں اجازت دی جائے“، یا ”یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے“۔ راوی کہتے ہیں: پھر جتنا عرصہ اللہ نے چاہا گزر گیا، پھر آپ ﷺ نے انہیں بلایا اور اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر پھیرا اور تین بار فرمایا: ”اے اللہ! تِلِبّ کو بخش دے اور اس پر رحم فرما۔“