المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حبيب بن أبي ثابت، عن ابن عباس باب: حبیب بن ابی ثابت کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , وَاللهِ لَقَدْ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ، وَلَا يَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ , فَحَمِدَ اللهَ , ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا غَدَقًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ» ثُمَّ نَزَلَ فَمَا يَأْتِينَا أَحَدٌ مِنْ وَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ إِلَّا قَالَ: قَدْ أَحْيَيْتَنَاسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک آدمی) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس ایسی قوم سے آیا ہوں جن کے لیے کوئی چرواہا (اپنے ریوڑ کے لیے) زادِ راہ نہیں رکھتا اور کوئی نر جانور ان کے لیے (میدان میں) نہیں پھرتا (یعنی قحط سالی ہے)۔ چنانچہ آپ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش سے سیراب فرما جو فریادرس ہو، سرسبز کرنے والی، خوب برسنے والی، ہر طرف پھیلنے والی، جلد آنے والی، دیر نہ کرنے والی ہو۔“ پھر آپ ﷺ منبر سے اترے، تو ہمارے پاس جس طرف سے بھی کوئی آتا وہ کہتا: آپ نے ہمیں زندہ کر دیا۔