حدیث نمبر: 12580
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ: أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: «ادْعُوا لِي عَلِيًّا» ، فَقَالَتْ: أَلَا نَدْعُو أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ ,؟ قَالَ: «ادْعُوهُ» ثُمَّ قَالَتْ حَفْصَةُ: أَلَا نَدْعُو عُمَرَ؟ قَالَ: «ادْعُوهُ» ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَلَا نَدْعُو الْعَبَّاسَ عَمَّكَ؟ قَالَ: «ادْعُوهُ» فَلَمَّا حَضَرُوهُ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا، فَسَكَتَ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ كَانَتْ لَهُ إِلَيْنَا حَاجَةٌ ذَكَرَهَا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ» قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَضَرَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَانْطَلَقَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا أَحَسَّ النَّاسُ سَبَّحُوا، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَكَ، وَاسْتَفْتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ حَيْثُ انْتَهَى أَبُو بَكْرٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَائْتَمَّ أَبُو بَكْرٍ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَائْتَمَّ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، فَمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ , فَمَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ سے شام جاتے ہوئے (ان سے) پوچھا: کیا نبی کریم ﷺ نے کوئی وصیت کی تھی؟ تو انہوں نے بتایا: جب نبی کریم ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس علی کو بلاؤ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا ہم عمر کو نہ بلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ پھر سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا ہم آپ کے چچا عباس کو نہ بلائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ جب سب حاضر ہو گئے تو آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا، لیکن علی رضی اللہ عنہ کو موجود نہ پایا، تو خاموش ہو گئے اور کچھ نہ فرمایا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم ﷺ کے پاس سے اٹھ جاؤ، اگر آپ ﷺ کو ہم سے کوئی ضرورت ہوتی تو ضرور بیان فرماتے۔ یہ بات انہوں نے تین بار دہرائی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابوبکر حاضر تھے، چنانچہ ابوبکر آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھانے لگے، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو دو آدمیوں کے سہارے چل کر تشریف لائے۔ جب لوگوں کو آپ ﷺ کا احساس ہوا تو انہوں نے (تنبیہ کے لیے) سبحان اللہ کہا، تو ابوبکر پیچھے ہٹنے لگے، نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ رہو۔ نبی کریم ﷺ نے وہیں سے قراءت شروع کی جہاں ابوبکر پہنچ چکے تھے، اور ابوبکر کھڑے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے، تو ابوبکر نبی کریم ﷺ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر کی اقتدا کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل نہ کی تھی کہ آپ ﷺ کی حالت بہت زیادہ نازک ہو گئی، پھر آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے باہر تشریف لے گئے جبکہ آپ ﷺ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور آپ ﷺ نے کوئی وصیت نہ فرمائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12580
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 113، حدیث 12634