حدیث نمبر: 12544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُطَهَّرُ بْنُ الْحَكَمِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، قَالَ: وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، وَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَقْرَبَ الْخَلَائِقِ مِنْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤْمِنُ الَّذِي قُتِلَ مَظْلُومًا: رَأْسُهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَاتِلُهُ عَنْ شِمَالِهِ، وَأَوْدَاجُهُ يَشْخَبُ يَقُولُ: رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فِيمَ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ؟ "
ترجمہ

سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، نیک عمل کیا اور ہدایت پر قائم رہا؟ انہوں نے فرمایا: اسے توبہ کہاں نصیب ہو گی، حالانکہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے دن رحمان کے عرش سے سب سے قریب وہ مومن ہو گا جسے ظلماً قتل کیا گیا ہو، اس کا سر اس کی دائیں طرف ہو گا اور اس کا قاتل اس کی بائیں طرف، اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اس نے مجھے نماز پڑھنے سے کیوں روکا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12544
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 101، حدیث 12597