المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن حبتر، عن ابن عباس باب: قیس بن حبتر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ عَبْدُ الْقَيْسِ أَتَوْهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ رِيفٍ، وَإِنَّا نُصِيبُ مِنَ الْبَقْلِ فَأَمَرَنَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ: «انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، وَلَا تَنْبِذُوا فِي الْجَرِّ، وَلَا الدُّبَّاءِ وَلَا الْمُزَفَّتِ وَلَا النَّقِيرِ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْسِرِ، وَالْكُوبَةِ - وَهِيَ الطَّبْلُ - وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , فَإِذَا اشْتَدَّ قَالَ: «صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهُ , فَإِذَا اشْتَدَّ قَالَ: «صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ» قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: «فَإِذَا اشْتَدَّ فَأَهْرِقُوهُ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سب سے پہلے جس قبیلے نے رسول اللہ ﷺ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا وہ عبدالقیس تھا، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم ایک سرسبز زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں سبزی (کی کثرت) حاصل ہوتی ہے، تو آپ ﷺ ہمیں کسی مشروب کا حکم دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشکیزوں میں نبیذ بناؤ، مٹکوں میں مت بناؤ، نہ کدو کے برتن میں، نہ روغن لگے برتن میں، نہ کھجور کے تنے سے بنے برتن میں، کیونکہ مجھے شراب، جوئے اور کوبہ (یعنی طبلے) سے منع کیا گیا ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر جب وہ تیز ہو جائے (تو کیا کریں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر پانی ڈال دو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر جب وہ (پھر) تیز ہو جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر پانی ڈال دو۔“ راوی کہتے ہیں: تیسری یا چوتھی بار فرمایا: ”جب وہ تیز ہو جائے تو اسے بہا دو۔“