❮
❯
حدیث نمبر: 12456
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا صَالِحٌ التِّرْمِذِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عَدِيُّ بْنُ بَدَّاءٍ، وَتَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِتِجَارَةٍ فَخَرَجَ مَعَهُمَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ، وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصٌ بِالذَّهَبِ، «فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ مَا كَتَمْتُمَاهَا وَلَا أَطْلَقْتُمَا» ، ثُمَّ وَجَدُوا الْجَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ، فَحَلَفَا وَأَخَذَ الْجَامَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] الْآيَةُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عدی بن بداء اور تمیم داری تجارت کے سلسلے میں مکہ آیا جایا کرتے تھے، ان کے ساتھ بنو سہم کا ایک آدمی بھی نکلا۔ وہ ایک ایسی سرزمین میں فوت ہو گیا جہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا، اس نے (اپنا ترکہ پہنچانے کی) وصیت ان دونوں کے سپرد کر دی۔ انہوں نے اس کا ترکہ اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیا، لیکن چاندی کا سونے کے تاروں سے مزین ایک پیالہ اپنے پاس روک لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے اللہ کی قسم لی کہ ”نہ تم نے اسے چھپایا اور نہ ہی (کوئی چیز) الگ کی“، پھر وہ پیالہ مکہ میں پایا گیا، تو انہوں نے کہا: ہم نے یہ تمیم داری اور عدی سے خریدا تھا۔ تب سہمی کے دو ورثاء کھڑے ہوئے، قسم کھائی اور پیالہ لے لیا۔ اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! تمہارے درمیان (وصیت کے وقت) گواہی یہ ہے“ [سورۃ المائدہ: 106] – آیت کے آخر تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12456
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 71، حدیث 12509