المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12453
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ مَخْلَدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَكَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «مَنْ وَضَعَ لِي وَضُوئِي؟» قَالَتِ: ابْنُ أُخْتِي يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو پوچھا: ”میرے لیے وضو کا پانی کس نے رکھا؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھانجے نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل (قرآن کی تفسیر) سکھا۔“