حدیث نمبر: 12401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ، وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «إِذَا صَلَّى بِهِمْ جَهَرَ بِالْقُرْآنِ» ، فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوهُ، وَسَبُّوا مَنْ جَاءَ بِهِ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] ، فَيَسْمَعُهُ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوهُ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: «أَسْمِعْ أَصْحَابَكَ» ، {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠]
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”اور اپنی نماز نہ تو بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ، بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو“ [الإسراء: 110] کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، تو مشرکین جب یہ سنتے تو آپ ﷺ کو اور جو یہ قرآن لے کر آئے انہیں برا بھلا کہتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف وحی فرمائی: ”اور اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھو“ [الإسراء: 110]، تاکہ مشرکین سن کر برا بھلا نہ کہیں، ”اور نہ بالکل آہستہ پڑھو“ [الإسراء: 110]، یعنی اپنے ساتھیوں کو سنا دو، ”اور اس کے درمیان کا راستہ اختیار کرو“ [الإسراء: 110]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12401
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 55، حدیث 12454