حدیث نمبر: 12389
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَإِذَا الْيَهُودُ صِيَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ غَرَّقَ اللهُ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَنَجَّى مُوسَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وأَنَا أَوْلَى بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِهِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہ عاشورہ کا دن تھا، اور یہود روزے سے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں موسیٰ علیہ السلام کا زیادہ حق دار ہوں،“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12389
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 50، حدیث 12442