المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا , وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} [البقرة: ١٢٦] ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " كَانَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ احْتَجَرَهَا دُونَ النَّاسِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ كَفَرَ أَيْضًا، فَأَنَا أَرْزُقُهُمْ كَمَا أَرْزُقُ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْلُقُ خَلْقًا لَا أَرْزُقُهُمْ، أُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا , ثُمَّ اضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابِ النَّارِ "، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا} [الإسراء: ٢٠]سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما“ [سورۃ البقرہ: 126] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا صرف مومنوں کے لیے مخصوص کر دی تھی، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اور جو کفر کرے اسے بھی میں اسی طرح رزق دوں گا جیسے مومنوں کو دیتا ہوں، میں ایسی مخلوق پیدا کرتا ہوں جسے رزق نہیں دیتا، انہیں تھوڑا سا فائدہ دیتا ہوں پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف مجبور کر دیتا ہوں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”ہم ان سب کو، ان کو بھی اور ان کو بھی، تیرے رب کی عطا سے بڑھاتے رہتے ہیں، اور تیرے رب کی عطا کبھی روکی نہیں جاتی“ [سورۃ الاسراء: 20]۔