المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير بن الخصاصية السدوسي وهو بشير بن معبد بن شراحيل بن سبع بن صبار سدوسي، وكان اسمه بالجاهلية زحم فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيرا باب: سیدنا بشیر بن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ، اور وہ بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن صبار سدوسی ہیں، زمانہ جاہلیت میں ان کا نام زحم تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَعُبَيْدٌ الْعِجْلُ، قَالَا: ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقْتُهُ بِالْبَقِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ، وَانْقَطَعَ شِسْعِي فَقَالَ لِي: «أَنْعِشْ قَدَمَكَ؟»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ طَالَتْ عُزُوبَتِي ونَأَيْتُ عَنْ دَارِ قَوْمِي قَالَ: «يَا بَشِيرُ أَلَا تَحْمَدُ الَّذِي أَخَذَ بِنَاصِيَتِكَ، مِنْ بَيْنِ رَبِيعَةَ قَوْمٍ يَرَوْنَ لَوْلَاهُمُ انْكَفَتِ الْأَرْضُ بِمَنْ عَلَيْهَا»ترجمہ
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو بقیع میں آپ ﷺ سے ملا، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ان گھروں کے مومن رہنے والوں پر سلامتی ہو“ اور میرا جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اپنا قدم اٹھاؤ؟“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری اکیلے رہنے کی مدت طویل ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کے گھر سے دور ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بشیر! کیا تم اس ذات کی حمد نہیں کرتے جس نے تمہیں ربیعہ کے قبیلے میں سے چن لیا، جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اپنے باشندوں سمیت الٹ جاتی؟“