المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ تَلَقَّاهُ بِلِسَانِهِ، وَشَفَتَيْهِ كَانَ يُعَالِجُ مِنْ ذَلِكَ شِدَّةً» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: ١٦] يَقُولُ: لِتَعْجَلَ بِأَخْذِهِ يَقُولُ: {إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} [القيامة: ١٧] يَقُولُ: جَمْعَهُ أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكِ وَأَنْ تَقْرَأَهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ} [القيامة: ١٨] فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ {فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: ١٨] يَقُولُ: فَاسْتَمَعْ وَأَنْصَتْ {ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: ١٩] أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فاسْتَراحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جب قرآن نازل ہوتا تو آپ ﷺ اسے اپنی زبان اور ہونٹوں سے جلدی جلدی لینے کی کوشش فرماتے، اس میں آپ ﷺ کو بڑی مشقت اٹھانی پڑتی۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اپنی زبان کو اس کے ساتھ جلدی کرنے کے لیے حرکت نہ دو“ [سورۃ القیامہ: 16]، یعنی جلدی سے اسے پکڑنے کی کوشش نہ کرو۔ ”بے شک اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے“ [سورۃ القیامہ: 17]، یعنی ہم اسے تمہارے سینے میں جمع کریں گے اور تمہیں پڑھائیں گے۔ ”پھر جب ہم اسے پڑھ چکیں“ [سورۃ القیامہ: 18]، یعنی جب ہم اسے نازل کر چکیں، ”تو اس کی قراءت کی پیروی کرو“ [سورۃ القیامہ: 18]، یعنی سنو اور خاموش رہو۔ ”پھر اس کا بیان کرنا بھی ہمارے ذمے ہے“ [سورۃ القیامہ: 19]، یعنی ہم اسے تمہاری زبان سے واضح کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اطمینان ہو گیا۔