المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12209
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِصَحِيفَةٍ ودواةٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا» فَقَالُوا: يَهْجُرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَكَتُوا وَسَكَتَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نَأْتِيكَ بَعْدُ، قَالَ: «بَعْدَمَا»ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب جمعرات کا دن آیا — اور جمعرات کا دن کیا (اہم) تھا! — پھر وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس ایک تختی اور دوات لاؤ، میں تمہارے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔“ تو کچھ حاضرین نے کہا: رسول اللہ ﷺ (بیماری کی شدت سے) بے ربط باتیں کر رہے ہیں۔ پھر وہ خاموش ہو گئے اور آپ ﷺ بھی خاموش ہو گئے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم بعد میں یہ چیز آپ کے پاس نہ لائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بعد (کیا فائدہ)۔“