حدیث نمبر: 12203
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الرَّبِيعِ الْبورانيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: " هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ بِحَرْفٍ مِنْهَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک بار سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے اوپر سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی، تو اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔“ اس سے ایک فرشتہ اترا، (جبریل نے) فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ ہے جو زمین کی طرف اترا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔“ اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا: آپ کو خوشخبری ہو ان دو نوروں کی جو آپ کو عطا کیے گئے ہیں، آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: سورۃ فاتحہ، اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان کا کوئی حرف بھی نہیں پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر دیا جائے گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12203
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 443، حدیث 12255