حدیث نمبر: 12192
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا رَبَاحُ بْنُ مَعْرُوفٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَجْلَانَ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ قَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَيْ بَنِيُّ اطْلُبْ لِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ تُكَفِّنِّي فِيهِ، وَمُرْهُ يُصَلِّي عَلَيَّ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَرَفْتَ شَرَفَ عَبْدِ اللهِ وَإِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَيْكَ ثَوْبًا تُكَفِّنُهُ فِيهِ، وَأَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَرَفْتَ عَبْدَ اللهِ ونِفَاقَهُ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «وَأَيْنَ؟» قَالَ: {إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي سَأَزِيدُهُ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤] وَأَنْزَلَ اللهُ {سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرَتَ لَهُمْ أُمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ} [المنافقون: ٦] قَالَ: وَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا لِكَيْ يَتْبَعَهُ، فَلَمْ يَفْعَلْ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فَرَأَى الرَّجُلَ فَعَرَفَ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقْعَدِهِ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ آذَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَطِنَ الرَّجُلُ، فَقَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ قُمْتُ ثَلَاثًا لِتَتَّبِعَنِي فَلَمْ تَفْعَلْ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ حاجِبًا فَإِنَّ نِسَاءَكَ لَسْنَ كَسَائِرِ النِّسَاءِ، وَهُوَ طُهْرٌ لقُلُوبِهِنَّ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤَذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ قَالَ: وَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْأُسَارَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَحيِي قَوْمَكَ وَخُذْ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ فَاسْتَعِنْ بِهِ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اقْتُلْهُمْ، فَقَالَ: لَوِ اجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْناكُمَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: ٦٧] قَالَ: ثُمَّ نَزَلَتْ {وَلَقَدْ خُلِقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ} [المؤمنون: ١٢] إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ فَقَالَ عُمَرُ تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ فَأُنْزِلَتْ {فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: ١٤]
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ...(نبی کریم ﷺ نے) اسے اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا دیا اور اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ عبداللہ (بن ابی) اور اس کے نفاق کو جانتے ہیں، کیا آپ اس پر نماز پڑھیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کہاں منع کیا گیا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگو تو اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا“ [سورۃ التوبہ: 80]۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں ستر سے بھی زیادہ بخشش مانگوں گا۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان میں سے جو بھی مر جائے، اس پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا“ [سورۃ التوبہ: 84]، اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نازل فرمایا: ”ان کے لیے برابر ہے، چاہے تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو، اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا“ [سورۃ المنافقون: 6]۔
ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بہت دیر تک بیٹھا رہا، تو نبی کریم ﷺ تین بار باہر نکلے تاکہ وہ آپ ﷺ کے پیچھے چلا آئے، مگر وہ نہ اٹھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے، اس شخص کو دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے اس کے بیٹھے رہنے کی ناپسندیدگی محسوس کر لی، تو کہا: شاید تم نے نبی کریم ﷺ کو تکلیف دی ہے۔ اس شخص کو بات کی سمجھ آ گئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں تین بار اس امید پر اٹھا کہ تم میرے پیچھے آ جاؤ گے مگر تم نے ایسا نہیں کیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کاش آپ کوئی دربان مقرر کر لیتے، کیونکہ آپ کی ازواج عام عورتوں جیسی نہیں ہیں، اور یہ پردہ ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے“ [سورۃ الاحزاب: 53] آخر آیت تک۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں اس کی خبر دی۔
اور رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں کے بارے میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اپنی قوم کو زندہ رکھیں اور ان سے فدیہ لے کر اس سے مدد لیں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں قتل کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم دونوں کسی ایک بات پر متفق ہو جاتے تو میں تمہاری نافرمانی نہ کرتا۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کسی نبی کے شایانِ شان نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں دشمن کو خوب کچل دے؛ تم دنیا کا مال چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت چاہتا ہے“ [سورۃ الانفال: 67]۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا“ [سورۃ المؤمنون: 12] آخر آیات تک، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی برکت والا ہے اللہ، سب سے بہتر پیدا کرنے والا)“، تو یہی الفاظ آیت میں نازل کر دیے گئے: ”پس بڑی برکت والا ہے اللہ، سب سے بہتر پیدا کرنے والا“ [سورۃ المؤمنون: 14]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12192
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 438، حدیث 12244