المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير بن الخصاصية السدوسي وهو بشير بن معبد بن شراحيل بن سبع بن صبار سدوسي، وكان اسمه بالجاهلية زحم فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيرا باب: سیدنا بشیر بن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ، اور وہ بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن صبار سدوسی ہیں، زمانہ جاہلیت میں ان کا نام زحم تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالُوا: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمًا فَهَاجَرَ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ لِي: «يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللهِ؟» قَالَ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللهِ مِنْ شَيْءٍ كُلٌّ خَيْرٌ صُنِعَ بِي، قَالَ: ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: «لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: «لَقَدْ فَاتَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ حَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ، فَنَادَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ اخْلَعْ نَعْلَيْكَ» ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَعَ الرَّجُلُ نَعْلَيْهِ فَرَمَى بِهِمَا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ مُسْلِمٍسیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ، جن کا زمانہ جاہلیت میں نام زَحم تھا، تو ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں بشیر کا نام دیا، بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تمہیں اللہ پر کس بات کا شکوہ ہے؟“ میں نے کہا: مجھے اللہ پر کسی چیز کا کوئی شکوہ نہیں، مجھ سے تو ہمیشہ بھلائی ہی کی گئی ہے، آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے تو فرمایا: ”ان لوگوں نے بہت بھلائی پائی“ یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی، پھر آپ ﷺ مشرکین کی قبروں کے پاس آئے تو فرمایا: ”ان لوگوں سے بہت بھلائی چھوٹ گئی“ یہ بات بھی تین بار فرمائی، پھر رسول اللہ ﷺ کی نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک آدمی قبروں پر چل رہا ہے اور اس نے جوتے پہن رکھے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے اسے پکارا: ”اے چمڑے کے دو جوتوں والے! اپنے جوتے اتار دو“ اس آدمی نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، تو اس نے اپنے جوتے اتار کر پھینک دیے، اور یہ الفاظ مسلم کی روایت کے ہیں۔