حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ بَشْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ تُضِيءُ، أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى، تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ تَسِيرُ النَّهَارَ، وَتُقِيمُ اللَّيْلَ، تَغْدُو وَتَرُوحُ، يُقَالُ: غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُو، قَالَتِ النَّارُ: أَيُّهَا النَّاسُ فَقِيلوا رَاحَتْ، أَيُّهَا النَّاسُ فَرُوحُوا، مَنْ أَدْرَكْتُهُ أَكَلْتُهُ "
ترجمہ

رافع بن بشر سلمی اپنے والد سیدنا بشیر سلمی رضی اللہ عنہ سے، اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ ایک آگ نکلے جو بصریٰ تک اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے، وہ سست رفتار اونٹ کی چال چلے گی، دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہرے گی، صبح نکلے گی اور شام کو لوٹے گی، لوگ آپس میں کہیں گے: اے لوگو! آگ نکل چکی، تم بھی نکل چلو، آگ کہے گی: اے لوگو! دوپہر کے لیے ٹھہرو، پھر کہے گی: اے لوگو! شام کے لیے چلو، تو وہ جسے پا لے گی اسے کھا جائے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1218
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 42، حدیث 1229