المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَرَقَدَني عَلَى فَضْلِ وِسَادَةٍ حَتَّى " إِذَا كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ قَامَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ آخِرَ سُورَةَ آلَ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلَقِ السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضِ} [البقرة: ١٦٤] حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ مُعَلَّقٍ، فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَهُوَ يَفْتِلُ بِأُذُنِي فَصَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ نَامَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَأَيْقَظَهُ لِلصَّلَاةِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دے کر نبی کریم ﷺ کے پاس بھیجا، تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ آپ ﷺ نے مجھے تکیے کے ایک حصے پر لٹا دیا، یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی تو آپ ﷺ اٹھے، آسمان کی طرف دیکھا، پھر سورۃ آل عمران کی آخری آیات تلاوت کیں: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ [سورۃ آل عمران: 190] یہاں تک کہ سورت مکمل کر لی۔ پھر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے، مسواک کی اور وضو کیا، مکمل وضو کیا اور بہت تھوڑا پانی خرچ کیا۔ پھر مجھے حرکت دی تو میں اٹھا اور وضو کیا، پھر آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے مجھے موڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ آپ ﷺ میرا کان مروڑتے ہوئے تلاوت کرتے رہے اور دس رکعت نماز پڑھی، پھر وتر پڑھا، پھر سو گئے، اور جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو نماز کے لیے جگایا، تو آپ ﷺ اٹھے، دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔