حدیث نمبر: 11991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ قُلْتَ لِي يَوْمَ أَحَدٍ حِينَ أُخْرِجْتُ عَنِ الشَّهَادَةِ وَاسْتُشْهِدَ مَنِ اسْتُشْهِدَ: «إِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ ورائِكَ قَالَ كَيْفَ صَبْرُكَ إِذَا خُضِبَتْ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَتِهِ وَرَأْسِهِ» فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَا بَيَّنْتَ مَا بَيَّنْتَ فَلَيْسَ ذَلِكَ مِنْ مَوَاطِنِ الصَّبْرِ، وَلَكِنْ هُوَ مِنْ مَوَاطِنِ الْبُشْرَى وَالْكَرَامَةِ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھ سے احد کے دن، جب مجھے شہادت سے محروم رکھا گیا اور جو شہید ہوئے سو ہوئے، فرمایا تھا: ”شہادت تمہارے پیچھے ہے،“ فرمایا: ”تمہارا صبر کیسا ہو گا جب یہ - داڑھی کی طرف اشارہ کیا - اس سے - سر کی طرف اشارہ کیا - رنگین ہو جائے گی؟“ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جب آپ نے جو واضح کرنا تھا واضح کر دیا، تو یہ صبر کے مقامات میں سے نہیں، بلکہ یہ خوشخبری اور عزت کے مقامات میں سے ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11991
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 372، حدیث 12043