حدیث نمبر: 11990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ نَزَلَ عَلَيْهِ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: ١] إِلَى آخِرَ الْقِصَّةِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، يَا فَاطِمَةُ جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ» ، {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دَيْنِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: ٣] عَلَى أَنَّهُ يَكُونَ بَعْدِي فِي الْمُؤْمِنِينَ الْجِهَادُ قَالَ: عَلَامَ نُجَاهِدُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَقُولُونَ آمَنَّا؟ قَالَ: «عَلَى الْإِحْدَاثِ فِي الدِّينِ إِذَا مَا عَمِلُوا بِالرَّأْيِ وَلَا رَأْيَ فِي الدِّينِ، إِنَّمَا الدِّينُ مِنَ الرَّبِّ أَمْرُهُ وَنَهْيُهُ» قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَمْ يُخَصِّصْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ، قَالَ: «تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ، فَلَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا لَمْ يَكُنْ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ لقِدَمِكَ فِي الْإِسْلَامِ، وقَرابَتِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وصِهْرِكَ وَعِنْدَكَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، وَقَبْلَ ذَلِكَ مَا كَانَ مِنْ بَلَاءِ أَبِي طَالِبٍ، إِيَّايَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى أَنْ أَرْعَى لَهُ فِي وَلَدِهِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے﴾ [سورۃ النصر: 1] آخر تک۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی بن ابی طالب، اے فاطمہ! اللہ کی مدد اور فتح آ گئی،“ ﴿اور تم لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے استغفار کرو، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے﴾ [سورۃ النصر: 3] - یہ اس بات پر (دلالت کرتی ہے) کہ میرے بعد مومنوں کے درمیان جہاد ہو گا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم ان مومنوں سے کس بنیاد پر جہاد کریں جو کہتے ہیں 'ہم ایمان لائے'؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دین میں نئی باتیں پیدا کرنے پر، جب وہ رائے پر عمل کریں، حالانکہ دین میں رائے کی کوئی گنجائش نہیں، دین تو صرف رب کی طرف سے اس کا امر اور اس کی نہی ہے۔“ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آئے جس میں نہ کوئی قرآن نازل ہوا ہو اور نہ آپ کی طرف سے کوئی خاص سنت ہو، تو کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مومنوں میں سے عبادت گزاروں کے درمیان مشاورت (شوریٰ) کا معاملہ بناؤ، اور اسے کسی ایک خاص شخص کی رائے سے طے نہ کرو۔ اگر میں کسی کو اپنا جانشین بناتا تو تم سے زیادہ اس کا حقدار کوئی نہ ہوتا، اسلام میں تمہاری سبقت، رسول اللہ ﷺ سے تمہاری قرابت، تمہاری دامادی، اور تمہارے پاس مومن عورتوں کی سردار (فاطمہ) کے ہونے کی وجہ سے، اور اس سے پہلے ابوطالب کی میرے لیے جو آزمائش و حمایت تھی اس کی وجہ سے - قرآن نازل ہوا اور میں اس بات کا خواہش مند ہوں کہ اس کی اولاد میں اس کا خیال رکھوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11990
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 371، حدیث 12042