المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بديل بن ورقاء الخزاعي باب: سیدنا بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَبِيهِ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ قَالَ سَلَمَةُ: دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ هَذَا الْكِتَابَ وَقَالَ: يَا بُنَيَّ هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْصُوا بِهِ، وَلَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَبُسْرُ وسَرَوَاتُ بَنِي عَمْرٍو فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي لَمْ أَثِمْ بَالَكُمْ، وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ وَإِنَّ أَكْرَمَ أَهْلِي مِنْ تِهَامَةَ عَلِيَّ أَنْتُمْ، وأَقْرَبُهُ مِنِّي رَحِمًا، وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ، فَإِنِّي قَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرَ سَاكِنٍ مَكَّةَ إِلَّا مُعْتَمِرًا، أَوْ حَاجًّا، وَإِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ إِذْ سَلَّمْتُ، وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي، وَلَا مُحَصِّرينَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، وَابْنَا هَوْذَةَ وبايَعَا، وهَاجَرا عَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِكْرِمَةَ وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّ بَعْضًا مِنْ بَعْضٍ أَبَدًا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ» قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: «سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ هُوَ خَطُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ»سلمہ کہتے ہیں: میرے والد بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ خط دیا اور کہا: میرے بیٹے! یہ نبی کریم ﷺ کا خط ہے، اس کی اچھی حفاظت کرنا، اور تم ہمیشہ بھلائی میں رہو گے جب تک یہ تمہارے پاس ہے: ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بُسر اور بنی عمرو کے سرداروں کے نام، میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، امابعد! میں نے تمہارے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہارا کوئی حق ضائع نہیں کیا، اور تہامہ میں میرے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ عزت والے میرے نزدیک تم ہو، اور رشتے میں مجھ سے سب سے قریب، اور تمہارے تابع خوشبودار قبیلے والے، تو میں نے تم میں سے جس نے ہجرت کی اس کے لیے وہی کچھ لیا جو اپنے لیے لیا، چاہے وہ اپنی زمین میں ہجرت کر گیا ہو، مکہ میں نہ رہتا ہو سوائے عمرہ یا حج کے لیے، اور میں نے جب تم سے صلح کی، تو تمہارا کوئی حق ضائع نہیں کیا، اور تم میری طرف سے نہ خوف زدہ ہو نہ روکے گئے ہو، امابعد! علقمہ بن علاثہ اور ہوذہ کے دونوں بیٹوں نے اسلام قبول کیا اور بیعت کی، اور عکرمہ کے تابع لوگوں کے ساتھ ہجرت کی، اور ان کے تابع لوگوں میں سے جس نے بھی ہجرت کی اس کے لیے بھی وہی کچھ لیا جو اپنے لیے لیا، اور بے شک کچھ لوگ ہمیشہ سے حل اور حرم دونوں میں ایک دوسرے کا حصہ ہیں“ ابومحمد کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتایا، انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے بزرگوں کو یہ کہتے سنا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی تحریر ہے۔“