المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بديل بن ورقاء الخزاعي باب: سیدنا بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ بُدَيْلَ بْنَ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي حَفْلَةٍ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ خُزَاعَةَ، وَكَتَبَ إِلَيْهِمْ، وَإِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وسَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ؛ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمِ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي لَمْ أَثِمْ بَالَكُمْ، وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ، وَإِنَّ أَكْرَمَ أَهْلِ تِهَامَةِ عَلِيَّ لَأَنْتُمْ وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ، وَقَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرَ سَاكِنٍ مَكَّةَ، وإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي، وَلَا مُخَوَّفِينَ» هَذَا أَوْ نَحْوُهُسیدنا بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے دن خزاعہ کی جماعت میں تشریف لے گئے، اور انہیں اور بدیل بن ورقاء اور بنی عمرو کے سرداروں کو یہ لکھا: ”تم پر سلامتی ہو؛ میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، امابعد! میں نے تمہارے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارا کوئی حق ضائع نہیں کیا، اور تہامہ کے باشندوں میں سب سے زیادہ عزت والے میرے نزدیک تم اور تمہارے تابع خوشبودار (مُطَیَّبین) قبیلے والے ہیں، اور میں نے تم میں سے جس نے ہجرت کی اس کے لیے وہی کچھ لیا ہے جو اپنے لیے لیا، چاہے وہ اپنی ہی زمین میں ہجرت کر گیا ہو، مکہ میں نہ رہتا ہو، اور تم میری طرف سے نہ خوف زدہ ہو اور نہ ڈرائے جاؤ گے“ یہ یا اسی جیسے الفاظ تھے۔