المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11683
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ بِالْعِيرِ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ: لَا يَصْلُحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ؟» قَالَ: لِأَنَّ اللهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ "ترجمہ
…نبی کریم ﷺ سے بدر سے فارغ ہونے کے بعد کہا گیا: قافلے کا تعاقب کیجیے، اس کے آگے کوئی چیز حائل نہیں۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے، جو اس وقت اپنی قید میں بندھے ہوئے تھے، کہا: یہ مناسب نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: کیونکہ اللہ نے آپ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا، اور اللہ نے آپ کو وہ عطا فرما دیا جس کا وعدہ کیا تھا۔