❮
❯
حدیث نمبر: 11658
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مأواهمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: ٩٧] قَالُوا: كَانُوا قَوْمًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِمَكَّةَ فَخَرَجُوا مَعَ قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِي قِتَالٍ فَقُتِلُوا مَعَهُمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا فَأُولَئِكَ عَسَى اللهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ} [النساء: ٩٩] فَعَذَرَ اللهُ أَهْلَ الْعُذْرِ مِنْهُمْ، وَأَهْلَكَ مَنْ لَا عُذْرَ لَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وكُنتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ كَانَ لَهُ عُذْرٌ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (اس آیت کی تفسیر میں) فرماتے ہیں: ”بیشک وہ لوگ جن کی روح فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے، وہ (فرشتے) کہتے ہیں: تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں کمزور و بےبس تھے۔ وہ کہتے ہیں: کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ سو ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے“ [سورۃ النساء: 97]، فرمایا: یہ مکہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت تھی جو مشرکین کے ایک گروہ کے ساتھ نکل کر جنگ میں شریک ہوئی اور ان کے ساتھ مارے گئے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”سوائے کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے جو کوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ کسی راستے کی ہدایت پاتے، امید ہے کہ اللہ انہیں معاف کر دے“ [سورۃ النساء: 99]، سو اللہ نے ان میں سے جن کا کوئی عذر تھا انہیں معذور رکھا، اور جس کا کوئی عذر نہ تھا اسے ہلاک کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جن کا عذر تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11658
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 272، حدیث 11708