حدیث نمبر: 1158
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا، نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ وَقَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَنْسَكِ يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلَاةُ» ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ أُعْطِيَ قَوْسًا، أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُمْ، وَنَهَاهُمْ
ترجمہ

یزید بن براء اپنے والد سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے عیدالاضحی کے دن رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، تو آپ ﷺ تشریف لائے، لوگوں کو سلام کیا اور فرمایا: ”آج کے دن کا سب سے پہلا نسک نماز ہے“ پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف رخ کیا، پھر آپ ﷺ کو ایک کمان یا لاٹھی دی گئی تو آپ ﷺ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کی، اور انہیں حکم دیا اور منع کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1158
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 24، حدیث 1169