حدیث نمبر: 11525
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] مِنْ أَجْلِ أُولَئِكَ يَقُولُ: «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ فَيَتَفَرَّقُوا عَنْكَ، وَلَا تُخَافِتْ بِهَا فَلَا يَسْمَعُهَا مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَهَا، مِمَّنْ يَسْتَرِقُ ذَلِكَ دُونَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَدْعُونَ إِلَى بَعْضِ مَا يَسْمَعُ فَيَنْتَفِعُ بِهِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: یہ آیت ”اور اپنی نماز نہ تو بلند آواز سے پڑھو اور نہ اسے بالکل دبی آواز میں پڑھو، بلکہ ان کے درمیان ایک راستہ اختیار کرو“ [سورۃ الاسراء: 110] انہی (مشرکین) کی وجہ سے نازل ہوئی تھی، آپ فرماتے ہیں: ”اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھو کہ وہ تجھ سے بھاگ کھڑے ہوں، اور نہ اتنی دبی آواز میں پڑھو کہ وہ شخص نہ سن سکے جو سننا چاہتا ہے، ان میں سے جو چوری چھپے سننا چاہے، شاید وہ اس میں سے کچھ سن کر دعوت کی طرف مائل ہو جائے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11525
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 228، حدیث 11574