حدیث نمبر: 11483
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، أَلَا إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ، وَسَنَّ سننًا، وَحَدَّ حُدُودًا، أَحَلَّ حَلَالًا، وَحَرَّمَ حَرَامًا، وشَرَعَ الدِّينَ، فَجَعَلَهُ سَهْلًا سَمْحًا وَاسِعًا وَلَمْ يَجْعَلْهُ ضَيِّقًا، أَلَا إِنَّهُ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ، وَمَنْ نَكَثَ ذِمَّتِي لَمْ يَنَلْ شَفَاعَتِي، وَلَمْ يَرِدْ عَلِيَّ الْحَوْضَ» أَلَا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الْقَتْلِ إِلَّا ثَلَاثًا: مُرْتَدٌ بَعْدَ إِيمَانٍ، أَوْ زَانٍ بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَاتَلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِقَتْلِهِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، سن لو! اللہ نے فرائض مقرر کیے، سنتیں جاری کیں، حدیں مقرر کیں، حلال کو حلال اور حرام کو حرام کیا، اور دین کو آسان، نرم اور کشادہ بنایا، تنگ نہیں بنایا۔ سن لو! جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں، اور جس میں عہد نہیں اس میں دین نہیں، اور جس نے میرا عہد توڑا اسے میری شفاعت نہ ملے گی اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا۔“ سن لو! اللہ عزوجل نے صرف تین صورتوں میں قتل کی اجازت دی ہے: ایمان لانے کے بعد مرتد ہونے والا، شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا کرنے والا، یا کسی کو قتل کرنے والا جسے اس کے قتل کے بدلے قتل کیا جائے۔ سن لو! کیا میں نے پہنچا دیا؟

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11483
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 213، حدیث 11532