حدیث نمبر: 11456
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَكَثَّرُوا سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ فَيَأْتِي السَّهْمُ برمايةٍ فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ} [النساء: ٩٧] الْآيَةَ ".
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے، وہ مشرکین کی تعداد بڑھاتے تھے، پھر کوئی تیر کسی نشانے سے آتا اور ان میں سے کسی کو لگ کر اسے مار دیتا، یا وہ ضرب لگنے سے مارا جاتا، تو اللہ عزوجل نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”بیشک جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوں، وہ ان سے کہتے ہیں: تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں کمزور کیے گئے تھے۔“ [سورۃ النساء: 97] آخر تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11456
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 205، حدیث 11505