❮
❯
حدیث نمبر: 11432
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْأَرْكُونِ، ثنا أَبْيَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَحْشِيٍّ قَاتَلِ حَمْزَةَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: يَا مُحَمَّدُ، كَيْفَ تَدْعُونِي إِلَى دِينِكَ، وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ مَنْ قَتَلَ أَوْ أَشْرَكَ أَوْ زَنَا يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَخْلُدُ فِيهِ مُهَانًا، وَأَنَا قَدْ صَنَعْتُ ذَلِكَ؟ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّئَاتِهِمُ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الفرقان: ٧٠] ، فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا شَرْطٌ شَدِيدٌ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، فَلَعَلِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى هَذَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: ٤٨] ، فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ أَرَى بَعْدَ مشيئةٍ فَلَا أَدْرِي يُغْفَرُ لِي أَمْ لَا فَهَلْ غَيْرُ هَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: ٥٣] "، قَالَ وَحْشِيٌّ: هَذَا فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَصَبْنَا مَا أَصَابَ وَحْشِيٌّ، قَالَ: «هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی کی طرف پیغام بھیجا، آپ ﷺ اسے اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ اس نے جواب میں کہلا بھیجا: اے محمد! آپ مجھے اپنے دین کی طرف کیسے بلاتے ہیں جبکہ آپ کا خیال ہے کہ جو شخص قتل کرے، یا شرک کرے، یا زنا کرے وہ گناہ کی سزا پائے گا، قیامت کے دن اس کے لیے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ ذلیل ہو کر اسی میں ہمیشہ رہے گا، اور میں تو یہ سب کچھ کر چکا ہوں؟ تو کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”مگر جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا، تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورۃ الفرقان: 70] وحشی نے کہا: اے محمد! یہ تو بڑی سخت شرط ہے — مگر جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا — شاید میں اس پر قادر نہ ہو سکوں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔“ [سورۃ النساء: 48] وحشی نے کہا: اے محمد! میں دیکھتا ہوں کہ یہ (بخشش) مشیت پر منحصر ہے، تو مجھے معلوم نہیں کہ مجھے بخشا جائے گا یا نہیں، کیا اس کے سوا کوئی اور راستہ ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورۃ الزمر: 53] وحشی نے کہا: بس یہی کافی ہے، چنانچہ وہ آیا اور مسلمان ہو گیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم بھی وہی گناہ کریں جو وحشی نے کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آیت عام طور پر سب مسلمانوں کے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11432
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 197، حدیث 11480