المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11425
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا} [آل عمران: ٨٣] «أَمَّا مَنْ فِي السَّماَوَاتِ فَالْمَلَائِكَةُ، وَأَمَّا مَنْ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ وُلِدَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا كَرْهًا فَمَنْ أُتِيَ بِهِ مِنْ سَبَايَا الْأُمَمِ فِي السَّلَاسِلِ، وَالْأغلالِ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا: ”اور اسی کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، خوشی سے بھی اور ناخوشی سے بھی“ [سورۃ آل عمران: 83] ”آسمانوں میں جو ہیں وہ فرشتے ہیں، اور زمین میں جو ہیں ان سے مراد وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے، اور 'ناخوشی سے' سے مراد وہ لوگ ہیں جو اقوام کے قیدیوں میں سے زنجیروں اور طوقوں میں لائے گئے، انہیں ناخوشی کے باوجود جنت کی طرف کھینچا جاتا ہے۔“