حدیث نمبر: 11382
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أَتَدْرِي بِمَا تَبَسَّمْتُ إِلَيْكَ؟» قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ بَاهَى مَلَائِكَتَهُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَامَّةً وَبَاهَى بِكَ خَاصَّةً»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور مسکرائے، پھر فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا جانتے ہو میں تمہیں دیکھ کر کیوں مسکرایا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے عرفہ کی رات اپنے فرشتوں کے سامنے عرفات والوں پر عمومی طور پر اور تم پر خاص طور پر فخر فرمایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11382
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 182، حدیث 11430