المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن أبي مليكة، عن ابن عباس باب: عبید بن ابی ملیکہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ صَنَعَ لِقُرَيْشٍ طَعَامًا فَلَمَّا أَكَلُوا قَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَاحِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بساحرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَاهِنٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بكاهنٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: شَاعِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بشاعرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سِحْرٌ يُؤْثَرُ، فَأَجْمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنَّهُ سِحْرٌ يُؤْثَرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَحَزِنَ وَقَنَعَ رَأْسَهُ، وَتَدَثَّرَ» فَأَنْزَلَ اللهُ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرْ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ} [المدثر: ٢] "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ نے قریش کے لیے کھانا تیار کیا، جب انہوں نے کھانا کھا لیا تو اس نے کہا: تم اس آدمی (نبی کریم ﷺ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ کچھ نے کہا: جادوگر ہے، اور کچھ نے کہا: جادوگر نہیں، اور کچھ نے کہا: کاہن ہے، اور کچھ نے کہا: کاہن نہیں، اور کچھ نے کہا: یہ شاعر ہے، کچھ نے کہا: یہ شاعر نہیں، اور کچھ نے کہا: یہ سیکھا ہوا جادو ہے، آخرکار ان سب کی رائے اسی پر جمع ہو گئی کہ یہ سیکھا ہوا جادو ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ کو رنج ہوا، آپ ﷺ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور ڈراؤ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اپنے کپڑے پاک رکھو، گندگی سے دور رہو، احسان جتا کر زیادہ حاصل کرنے کی خواہش نہ کرو، اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔“ [سورۃ المدثر: 2]