حدیث نمبر: 11204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ صَنَعَ لِقُرَيْشٍ طَعَامًا فَلَمَّا أَكَلُوا قَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَاحِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بساحرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَاهِنٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بكاهنٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: شَاعِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بشاعرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سِحْرٌ يُؤْثَرُ، فَأَجْمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنَّهُ سِحْرٌ يُؤْثَرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَحَزِنَ وَقَنَعَ رَأْسَهُ، وَتَدَثَّرَ» فَأَنْزَلَ اللهُ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرْ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ} [المدثر: ٢] "
ترجمہ

… (کفار قریش میں سے) کچھ نے کہا: یہ شاعر ہے، کچھ نے کہا: یہ شاعر نہیں، اور کچھ نے کہا: یہ سیکھا ہوا جادو ہے، آخرکار ان سب کی رائے اسی پر جمع ہو گئی کہ یہ سیکھا ہوا جادو ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ کو رنج ہوا، آپ ﷺ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور ڈراؤ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اپنے کپڑے پاک رکھو، گندگی سے دور رہو، احسان جتا کر زیادہ حاصل کرنے کی خواہش نہ کرو، اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔“ [سورۃ المدثر: 2]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11204
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 125، حدیث 11250