حدیث نمبر: 11205
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَ يَتَنَاوَلُ مِنَ الرُّطَبِ فَيَأْكُلُ، وَهُوَ يَمْشِي وَأَنَا مَعَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، لَا تَأْكُلْ بإِصبعينِ، فَإِنَّهَا أَكْلَةُ الشَّيْطَانِ وَكُلْ بِثَلَاثَةِ أَصَابِعَ»
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَوْ شَهْرَ رَمَضَانَ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُهُ قَالَ: «لَيْسَ لِيَوْمٍ عَلَى يَوْمٍ فَضْلٌ إِلَّا شَهْرَ رَمَضَانَ وَعَاشُورَاءَ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار میں سے کسی کے باغ میں تشریف لے گئے اور تازہ کھجوریں توڑ توڑ کر کھانے لگے، آپ ﷺ چل رہے تھے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے ابن عباس! دو انگلیوں سے مت کھاؤ، یہ شیطان کا کھانے کا طریقہ ہے، تین انگلیوں سے کھاؤ۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی دن کو فضیلت کی خاطر خاص طور پر روزہ رکھنے کا اہتمام کیا ہو سوائے اس دن کے، یعنی عاشوراء کے دن، یا رمضان کے مہینے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی دن کو کسی دن پر فضیلت نہیں سوائے رمضان کے مہینے اور عاشوراء کے دن کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11205
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 126، حدیث 11251