المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع بن جبير بن مطعم عن ابن عباس باب: نافع بن جبیر بن مطعم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَبَلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَلَى مِثَالِ قَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ قَدْرَ ظِلِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حُرِّمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ قَدْرَ ظِلِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِثْلَيْ ظِلِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ» - قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ قَالَ فِي الْفَجْرِ - ثُمَّ قَالَ: " الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ ".سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی، تو پہلی بار انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر تھا، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوتا ہے۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دگنا ہو گیا، پھر مغرب کی نماز اسی وقت پڑھائی جب پہلے دن روزہ دار افطار کرتا ہے، پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر گیا، پھر فجر کی نماز پڑھائی“ — ابونعیم کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ فجر کے بارے میں کیا فرمایا — پھر فرمایا: ”پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہ تم سے پہلے انبیاء کے اوقات ہیں، نماز کا وقت انہی دو وقتوں کے درمیان ہے۔“