المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع بن جبير بن مطعم عن ابن عباس باب: نافع بن جبیر بن مطعم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَبَّاسٍ، هَلْ لِلْقَاتِلِ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْمُتَعَجِّبِ مِنْ شَأْنِهِ: مَاذَا تَقُولُ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا تَقُولُ؟ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ؟ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا رَأْسُهُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ، مُتَلَبِّبًا قَاتِلَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى يَشْخُبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا، حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ الْعَرْشَ، فَيَقُولُ الْمَقْتُولُ لِلَّهِ: رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْقَاتِلِ: تَعِسْتَ، وُيَذْهَبُ بِهِ إِلَى النَّارِ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک سائل نے ان سے پوچھا: اے ابوالعباس! کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حیرت زدہ ہو کر فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے دوبارہ سوال دہرایا، تو انہوں نے دو یا تین بار فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے توبہ کیسے نصیب ہو؟ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”قتل کیا گیا شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اپنا سر ایک ہاتھ سے تھامے ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کا گریبان پکڑے ہوگا، جس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، یہاں تک کہ اسے عرش کے پاس لے آئے گا، تو مقتول اللہ سے عرض کرے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ عزوجل قاتل سے فرمائے گا: تیری ہلاکت ہو، اور اسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔“