حدیث نمبر: 10691
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حِجَازًا بَيْنَ النَّاسِ، وَكَانَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ أَثِمَ فِيهَا، أُرِيَ عُقُوَبةً مِنَ اللهِ يُنَكَّلُ بِهَا مِنَ الْجُرْأَةِ عَلَى الْمَحَارِمِ، فَكَانُوا يَتَوَرَّعُونَ عَنْ أَيْمَانِ الصَّبْرِ وَيَخَافُونَهَا، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ الْقَسَامَةَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ هُمْ أَهْيَبَ لَهَا؛ لِمَا عَلَّمَهُمُ اللهُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَسَامَةِ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو حَارِثَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْ مُحَيِّصَةَ فَأَنْكَرَتِ الْيَهُودُ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ لِقَسَامَتِهِمْ؛ لِأَنَّهُمُ الَّذِينَ ادَّعَوُا الدَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُحَلِّفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّهُمْ لَبَرَاءٌ مِنْ قَتْلِهِ، فَنَكَلَتْ يَهُودُ عَنِ الْأَيْمَانِ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي حَارِثَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُحَلِّفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ غِيلَةً، وَيَسْتَحِقُّونَ بِذَلِكَ الَّذِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ الَّذِي قَتَلَ صَاحِبَهُمْ، فَنَكَلَتْ بَنُو حَارِثَةَ عَنِ الْأَيْمَانِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى يَهُودَ؛ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ وَفِي دِيَارِهِمْ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: زمانۂ جاہلیت میں قسامہ لوگوں کے درمیان ایک باز رکھنے والی چیز تھی، اور جو شخص جھوٹی قسمِ صبر کھاتا تھا اسے اس میں گناہ ہوتا تھا، اسے اللہ کی طرف سے کوئی سزا دکھائی جاتی جس سے حرام کاموں پر جرأت کرنے والے کو عبرت دلائی جاتی، اس لیے وہ قسمِ صبر سے بچتے اور اس سے ڈرتے تھے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آپ ﷺ نے قسامہ کو برقرار رکھا، اور مسلمان اس سے اور زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بارے میں سکھا دیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے دو قبیلوں کے درمیان قسامہ کا فیصلہ فرمایا جنہیں بنو حارثہ کہا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے محیصہ کو قتل کر دیا تھا مگر یہود نے اس سے انکار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے یہود کو ان کی قسامت کے لیے بلایا کیونکہ وہی خون کا دعویٰ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ پچاس آدمی پچاس قسمیں کھائیں کہ وہ اس کے قتل سے بری ہیں، تو یہود نے قسمیں کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے بنو حارثہ کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ پچاس آدمی پچاس قسمیں کھائیں کہ یہود نے اسے دھوکے سے قتل کیا ہے، اور اس طرح وہ اس شخص کے خلاف اپنا دعویٰ ثابت کر لیں جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ اس نے ان کے ساتھی کو قتل کیا، تو بنو حارثہ نے بھی قسمیں کھانے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو یہود پر دیت کا فیصلہ فرما دیا، کیونکہ وہ مقتول انہی کے درمیان اور انہی کی بستی میں پایا گیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10691
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 304، حدیث 10737