المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس باب: عبیداللہ بن عبداللہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] ، {الظَّالِمُونَ} [المائدة: ٤٥] ، {الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧] ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا فِي طَائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتِ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الْعَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلَّتِ الطَّائِفَتَانِ لِحُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُوطِئْهُمَا وَهُوَ الصُّلْحُ، فَقَتَلَتِ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا، فَأَرْسَلَتِ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنِ ابْعَثُوا إِلَيْنَا مِائَةَ وَسْقٍ، فَقَالَتِ الذَّلِيلَةُ: وَهَلْ كَانَ هَذَا قَطُّ، دِينُهُمَا وَاحِدٌ، وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا، وَفَرَقًا مِنْكُمْ، فَلَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ، فَكَادَتِ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ جَعَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَفَكَّرَتِ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ: " وَاللهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوا، مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا وَقَهْرًا لَهُمْ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ، فَإِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمُوهُ حَذِرْتُمُوهُ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ، فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ يَخْتَبِرُونَ لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَاذَا أَرَادُوا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا} [المائدة: ٤١] إِلَى قَوْلِهِ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧] . ثُمَّ قَالَ: فِيهِمْ وَاللهِ أُنْزِلَتْ، وَإِيَّاهُمْ عَنَى اللهُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں“ [سورۃ المائدہ: 44]، ”... ظالم ہیں“ [سورۃ المائدہ: 45]، ”... فاسق ہیں“ [سورۃ المائدہ: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیت یہود کے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی، ان میں سے ایک قبیلہ زمانہ جاہلیت میں دوسرے پر غالب آ گیا تھا، یہاں تک کہ دونوں اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب قبیلے کا کوئی فرد اگر مغلوب قبیلے کے کسی فرد کو قتل کرے تو اس کی دیت پچاس وسق (غلہ) ہو گی، اور مغلوب قبیلے کا کوئی فرد اگر غالب قبیلے کے کسی فرد کو قتل کرے تو اس کی دیت سو وسق ہو گی۔ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، تو دونوں قبیلے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے لیے جھک گئے، حالانکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے ان پر غلبہ حاصل نہیں کیا تھا اور انہیں مطیع نہیں کیا تھا، بلکہ یہ ایک صلح تھی۔ پھر مغلوب قبیلے کے ایک فرد نے غالب قبیلے کے ایک فرد کو قتل کر دیا، تو غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے کو پیغام بھیجا کہ ہمیں سو وسق بھیج دو۔ مغلوب قبیلے نے کہا: کیا ایسا کبھی ہوا ہے؟ دونوں کا دین ایک ہے، نسب ایک ہے، ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے یہ تمہیں تم سے اپنے اوپر ظلم اور تمہارے خوف کی وجہ سے دیا تھا، اب جب کہ محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں، ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ چھڑ جاتی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان فیصل بنائیں۔ تو غالب قبیلے نے سوچ بچار کے بعد کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ ہمیں ان کی نسبت دگنا نہیں دلوائیں گے، اور یہ بات درست ہے کہ انہوں نے ہمیں یہ صرف اپنے اوپر ظلم اور دباؤ کی وجہ سے دیا تھا۔ چنانچہ محمد ﷺ کے پاس ایسے لوگ خفیہ طور پر بھیجو جو تمہیں ان کی رائے کی خبر دیں، اگر وہ تمہیں تمہاری مرضی کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حکم مان لینا، اور اگر نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں فیصل نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے کچھ منافقین کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے پورے معاملے اور ان کے ارادے کی خبر دے دی، چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے رسول! آپ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر کی طرف دوڑتے ہیں“ [سورۃ المائدہ: 41] سے لے کر ”اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں“ [سورۃ المائدہ: 47] تک۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی اور اللہ کی مراد وہی تھے۔