المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
القاسم بن محمد عن ابن عباس باب: قاسم بن محمد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمٌ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا بِقَوْلٍ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبْطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى أَنَّهُ وَجَدَهُ مَعَ امْرَأَتِهِ أُحَيْمِرَ كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ بَيِّنْ» ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ» ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کرنے والوں کا ذکر ہوا تو عاصم نے اس بارے میں کوئی بات کہی، پھر چلے گئے۔ پھر ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے۔ عاصم نے کہا: میں اس میں اپنی (کہی ہوئی) بات ہی کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا ہوں۔ چنانچہ وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، تو اس نے آپ ﷺ کو وہ حال بتایا جس پر اس نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ اور وہ شخص (عورت کا شوہر) زرد رنگت، کم گوشت والا اور سیدھے بالوں والا تھا، جبکہ جس شخص کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا وہ سرخی مائل رنگت اور بھاری جسم والا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! حقیقت واضح فرما۔“ تو اس عورت نے ایسا بچہ جنا جو اس شخص سے مشابہت رکھتا تھا جس کا شوہر نے اپنی بیوی کے پاس پایا جانے کا ذکر کیا تھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کروایا۔ مجلس میں ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہی کے رجم کرتا تو اسی کو رجم کرتا“؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں کھلے عام بدکاری کرتی تھی۔