حدیث نمبر: 10535
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ عَجْلَانَ الْجَزَرِيُّ الْأَفْطَسُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَشَهِدْتُ جَنَازَتَهُ، فَجَاءَ طَيْرٌ أَبْيَضُ لَمْ يُرَ عَلَى خُلَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ فِي نَعْشِهِ، ثُمَّ لَمْ يُرَ خَارِجًا مِنْهُ، فَلَمَّا دُفِنَ تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، لَمْ نَدْرِ مَنْ تَلَاهَا {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِي} [الفجر: ٢٨] "
ترجمہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں فوت ہوئے، میں ان کے جنازے میں موجود تھا، تو ایک سفید پرندہ آیا جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا، یہاں تک کہ وہ ان کے تابوت میں داخل ہو گیا، پھر اسے اس سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ جب انہیں دفن کیا گیا تو قبر کے کنارے پر یہ آیت پڑھی گئی، ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ کس نے پڑھی: ”اے اطمینان والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے، پس میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا“ [سورۃ الفجر: 27-28]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10535
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 236، حدیث 10581