حدیث نمبر: 10508
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَزْرَةُ أَبُو عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَيْضِ مَوْلَاةُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَتْ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ دَعَا بِهَذَا الدُّعَاءِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ: سُبْحَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْأَرْضِ مَوْطِؤُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْقُبُورِ قَضَاؤُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي النَّارِ سُلْطَانُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي فِي الْهَوَاءِ رُوحُهُ، سُبْحَانَ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ، سُبْحَانَ الَّذِي وَضَعَ الْأَرْضَ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا مَنْجَا مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ "، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ كَالْمُتَنَهِّرِ: نَعَمْ
ترجمہ

ام الفیض، جو عبدالملک بن مروان کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، کہتی ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: جو شخص عرفہ کی شام یہ دعا مانگے، بشرطیکہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اس کی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے: ”پاک ہے وہ ذات جس کا عرش آسمان میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس کا قدم زمین میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس کا راستہ سمندر میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس کا فیصلہ قبروں میں (نافذ) ہے، پاک ہے وہ ذات جس کی رحمت جنت میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس کا اقتدار جہنم میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس کی روح ہوا میں ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا، پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کو بچھایا، پاک ہے وہ ذات جس سے کوئی نجات نہیں سوائے اسی کی طرف کے۔“ میں نے پوچھا: کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے سختی سے فرمایا: ہاں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10508
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 227، حدیث 10554