المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ الْكُوفِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مَذْعُورٍ، عَنْ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْتَقِيمُ دِينُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، وَلَا يَسْتَقِيمُ لِسَانُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْبَوَائِقُ؟ قَالَ: «غَشْمُهُ وَظُلْمُهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَصَابَ مَالًا مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ، وَأَنْفَقَ مِنْهُ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَإِنْ تَصَدَّقَ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ، وَمَا بَقِيَ فَزَادُهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يُكَفِّرُ الْخَبِيثَ، وَلَكِنَّ الطَّيِّبَ يُكَفِّرُ الْخَبِيثَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پاسداری نہیں اس میں دین نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! کسی بندے کا دین اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان درست نہ ہو، اور اس کی زبان اس وقت تک درست نہیں ہوتی جب تک اس کا دل درست نہ ہو، اور جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! شرارتیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا ظلم اور زیادتی۔ اور جس شخص نے حرام طریقے سے مال حاصل کیا اور اس میں سے خرچ کیا تو اس میں اس کے لیے برکت نہیں دی جائے گی، اور اگر اس نے صدقہ کیا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا، اور جو کچھ بچ گیا وہ اس کے لیے جہنم کا زادِ راہ بن جائے گا۔ بے شک برائی، برائی کا کفارہ نہیں بنتی، لیکن پاکیزگی برائی کا کفارہ بن جاتی ہے۔“