المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ السَّهْلِ الْمُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَنَوِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ تَنَامُ» ، ثُمَّ أَعَادَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» فَقُلْتُ: أَنَا، حَتَّى أَعَادَ مِرَارًا ثَلَاثَةً: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَنْتَ» ، فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ تَنَامُ» ، فَنِمْتُ فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ - أَوْ قَالَ - يَكُونُ لِمَنْ بَعْدِكُمْ، فَهَكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ» ، ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ، فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا، فَجَاءُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ هَا هُنَا» ، فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ، وَاللهِ مَا كَانَتْ تَحُلُّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوِيَةً عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: ١]سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوہ حدیبیہ سے واپس ہو رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ہماری نگرانی کون کرے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو سو جاؤ گے۔“ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا: ”آج رات ہماری نگرانی کون کرے گا؟“ میں نے پھر عرض کیا: میں، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا، اور ہر بار میں نے عرض کیا: میں، اے اللہ کے رسول! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی سہی۔“ چنانچہ میں نے ان کی نگرانی کی، یہاں تک کہ جب صبح ہونے لگی تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تم تو سو جاؤ گے“، تو میں سو گیا، ہم اس وقت تک بیدار نہ ہوئے جب تک سورج کی گرمی ہماری پیٹھوں پر نہ پڑی۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، جیسے وضو کرتے تھے ویسے وضو کیا اور فجر کی دو سنتیں پڑھیں، پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عزوجل اگر چاہتا کہ تم اس سے نہ سوؤ تو تم نہ سوتے، لیکن اس نے چاہا کہ یہ (سنت) تمہارے بعد آنے والوں کے لیے ہو - یا فرمایا: ہوگی - تو جو بھی سو جائے یا بھول جائے اسی طرح کرے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی اور لوگوں کے اونٹ بکھر گئے، لوگ انہیں تلاش کرنے نکلے، وہ اپنے اونٹ لے آئے سوائے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہاں سے (تلاش) شروع کرو۔“ میں نے وہیں سے شروع کیا جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا، تو میں نے دیکھا کہ اس کی نکیل ایک درخت پر اس طرح لپٹی ہوئی تھی کہ اللہ کی قسم! اسے کوئی ہاتھ ہی کھول سکتا تھا۔ میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں نے اس کی نکیل ایک درخت پر اس طرح لپٹی ہوئی پائی کہ اسے کوئی ہاتھ ہی کھول سکتا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک ہم نے آپ کے لیے واضح فتح فرما دی ہے“ [سورۃ الفتح: 1]۔