المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْكَهْتَلَةِ قَالَ مُحَمَّدٌ: أَظُنُّهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ - قَالَ - أَمَّا مَرَّةٌ فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ، فَأَرَاهُ، فَأَتَاهُ يَسُدُّ الْأُفُقَ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَإِنَّهُ كَانَ مَعَهُ إِذْ صَعِدَ، فِي قَوْلِهِ {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [النجم: ٩] ، فَلَمَّا أَنْ حَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَادَ فِي صُورَتِهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى، عِنْدَ سِدْرَةِ} [النجم: ١٣] الْمُنْتَهَى، عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِلَى قَوْلِهِ {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} [النجم: ١٨] ، قَالَ: «خَلْقِ جِبْرِيلَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (راوی کو گمان ہے کہ یہ انہی سے مروی ہے) روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا۔ فرمایا: ایک مرتبہ تو یہ کہ آپ ﷺ نے ان سے درخواست کی کہ وہ آپ کو اپنی اصل صورت میں اپنے آپ کو دکھائیں، تو انہوں نے دکھا دیا، چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس اس حال میں آئے کہ افق کو بھر رکھا تھا۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہ جب آپ ﷺ اوپر چڑھے تو وہ آپ کے ساتھ تھے، (جس کا ذکر) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ”پھر وہ قریب ہوا اور جھک آیا، تو وہ دو کمانوں کے فاصلے پر تھا یا اس سے بھی کم، پھر اس نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی“ [سورۃ النجم: 9]۔ پھر جب جبریل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل (کی قربت) کو محسوس کیا تو اپنی اصل صورت میں لوٹ آئے، تو یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے: ”اور بلاشبہ اس نے اسے (جبریل کو) ایک اور بار (اصلی صورت میں) دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس“ [سورۃ النجم: 13] ”اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے“ اللہ تعالیٰ کے فرمان تک: ”بلاشبہ اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) دیکھی“ [سورۃ النجم: 18]، فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام کی (اصل) صورت (کی نشانی) تھی۔“