حدیث نمبر: 10313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، أنا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ، وَبَقِيتُ مَعَهُ فِي ثَمَانِينَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَتَنَكَّصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمْ الدُّبُرَ، وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْضِي عَلَى بَغْلَتِهِ قُدُمًا، قَالَ: فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ، فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ، فَشَدَدْتُ نَحْوَهُ قُلْتُ: ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللهُ، قَالَ: «نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ» ، فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنَهُمْ تُرَابًا، قَالَ: «أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟» قُلْتُ: هُمْ أَوْلَى، قَالَ: «اهْتِفْ بِهِمْ» ، فَهَتَفْتُ بِهِمْ، فَجَاءُوا سُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهُمُ الشُّهُبُ، فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهَمْ
ترجمہ

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سیدھے آگے بڑھے جا رہے تھے، اتنے میں آپ ﷺ کا خچر بدک گیا اور آپ زین سے کچھ جھک گئے، میں نے آپ ﷺ کی طرف بڑھ کر عرض کیا: اوپر ہو جائیں، اللہ آپ کو بلند کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ایک مٹھی مٹی دو۔“ پھر آپ ﷺ نے وہ ان (دشمنوں) کے چہروں پر پھینکی تو ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ یہیں موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں پکارو۔“ چنانچہ میں نے انہیں پکارا تو وہ اپنی تلواریں ہاتھوں میں لیے، شہابِ ثاقب کی طرح آ گئے، اور مشرک پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10313
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 169، حدیث 10351