المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ الْجُهَنِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ مُسْلِمًا قَطُّ هَمٌ أَوْ حُزْنٌ فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ بَصَرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللهُ هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نَتَعَلَّمُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: «بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کو بھی کوئی غم یا پریشانی لاحق ہو اور وہ یہ دعا کرے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا حکم مجھ پر نافذ ہے، تیرا فیصلہ میرے حق میں عدل ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تو نے اپنے آپ کو نامزد کیا، یا جسے تو نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو سکھایا، یا جسے تو نے اپنے پاس غیب کے علم میں مخصوص رکھا، کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میری آنکھوں کا نور، میرے غم کا خاتمہ اور میری پریشانی کا ازالہ بنا دے، تو اللہ اس کا غم دور فرما دیتا اور اس کی پریشانی کی جگہ خوشی عطا فرما دیتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو انہیں سنے اسے یہ سیکھ لینے چاہئیں۔“