المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن عمر، عن بلال رضي الله عنهم باب: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَغَيْرَهُ، يُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى بَعِيرٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَأُسَامَةُ رِدْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَبِلَالٌ، فَمَكَثُوا فِي الْبَيْتِ طَوِيلًا وَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَرُوا الْبَابَ» فَسَبَقَهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَآخَرُ مَعَهُ، فَسَأَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِلَالًا، فَقَالَ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَرَاهُ حَيْثُ صَلَّى» وَلَمْ يَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّىسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن اسامہ بن زید کے اونٹ پر سوار ہو کر تشریف لائے، اسامہ آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اور آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو نبی کریم ﷺ، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال (کعبہ میں) داخل ہوئے، وہ گھر میں کافی دیر ٹھہرے اور اپنے اوپر دروازہ بند کر لیا، پھر جب نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو لوگ دروازے کی طرف دوڑے“ عبداللہ بن عمر اور ان کے ساتھ ایک اور شخص ان سے آگے نکل گئے، تو عبداللہ بن عمر نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی، ”تو انہوں نے وہ جگہ دکھا دی جہاں آپ ﷺ نے نماز پڑھی تھی“ اور ان سے یہ نہیں پوچھا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔