المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا، رَجُلٌ قَدْ لَاحَتْهُ النَّارُ، فَمَرَّ بِهِ رَبُّهُ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، أَخْرِجْنِي مِنْ هَذِهِ النَّارِ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَلَمَّا أَصَابَ الرَّوْحَ نَظَرَ إِلَى شَجَرَةِ الْجَنَّةِ قَالَ: يَا رَبِّ، فَخَرَجَ لَيْسَ لَهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَنْهَضُ بِهِ، فَخَرَجَ يَحْبُو حَتَّى أَتَاهُمْ، فَلَمْ يَجِدْ لَهُ مِنْهَا مَنْزِلًا، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا مَنْزِلًا، قَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، قَالَ: فَذَلِكَ أَنْقَصُ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَظًّا، قَالَ: لِمَ تَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبِّي؟ " قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَأَضْرَاسُهُسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا اور جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والا کون ہوگا؟ ایک ایسا شخص جسے آگ نے جھلسا دیا ہوگا، اس کا رب اس کے پاس سے گزرے گا تو وہ کہے گا: اے رب! مجھے اس آگ سے نکال کر کسی درخت کے سائے میں پہنچا دے۔ جب اسے راحت ملے گی تو وہ جنت کا درخت دیکھ کر کہے گا: اے رب! (مجھے وہاں پہنچا دے) چنانچہ وہ نکلے گا حالانکہ اس کے پاس اتنا عمل نہیں ہوگا جو اسے اٹھا کر لے جائے، وہ گھسٹتا ہوا ان تک پہنچے گا، لیکن اسے وہاں کوئی جگہ نہیں ملے گی، تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف واپس آ کر کہے گا: اے رب! مجھے اس میں کوئی جگہ نہیں ملی۔ اللہ فرمائے گا: جا، تیرے لیے دنیا کے برابر اور اس کے دس گنا (جگہ) ہے۔ وہ کہے گا: یہی تو جنت والوں میں سب سے کم حصہ پانے والا ہوگا۔ وہ کہے گا: تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے، حالانکہ تو میرا رب ہے؟“ راوی کہتے ہیں: (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ کی داڑھیں اور اگلے دانت ظاہر ہو گئے۔