المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَحْفُوظُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: «مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا؟» قُلْتُ: مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ، قَالَ: «قَدْ أَحْسَنْتَ، أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ» ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ضرورت (قضائے حاجت) کے لیے نکلے، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس کا کس نے حکم دیا؟“ میں نے عرض کیا: مجھے کسی نے حکم نہیں دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، جنت کی خوشخبری سنو۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنائی۔